بین الاقوامی سیاست کے آج کے دھچکے دار منظرنامے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر دنیا کے لیے سب سے بڑی تشویش بن گئی ہے۔ خلیج فارس کے پانیوں پر سناٹا چھایا ہوا ہے اور عالمی طاقتیں اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں کوئی غلط قدم پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک تباہ کن جنگ کی آگ میں نہ دھکیل دے۔ دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ، فوجی پارے بڑھانے اور اقتصادی پابندیوں کے سخت اضافے نے صورتحال کو مزید بھیانک بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم کی صورت حال پیدا ہوئی تو اس کا پہلا اثر عالمی تیل کی منڈیوں پر پڑے گا۔ خلیج فارس سے گزرنے والے تیل کے بحری راستے ممکنہ حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں آسمان تک پہنچ سکتی ہیں۔ پاکستان، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں جن پر درآمدی تیل کا بوجھ پہلے ہی بھاری ہے، مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کی صورت میں شرحِ سود، مہنگائی اور خوراک کی قیمتیں بے قابو ہو سکتی ہیں، جو لاکھوں عام شہریوں کی زندگیوں کو تباہ کر دیں گی۔
دوسری جانب، عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور اہم طاقتیں جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چین اور روس نے دونوں فریقوں پر قابو پانے کا زور دیا ہے جبکہ یورپی ممالک مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ اعتماد کی بحالی آسان نہیں، خاص طور پر جب جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں، خفیہ کارروائیوں اور پراکسی گروہوں کے درمیان تصادم نے صورتِ حال کو پیچیدہ